زخم پر زخم کى، رگڑائی سے پہچانا گیا
چاکِ دل اپنے تماشائی سے پہچانا گیا
کیا خوشى تھی کہ عیاں ہوتے ہوئے ٹوٹ گئى
کیسا وعدہ تھا کہ شہنائی سے پہچانا گیا
ڈرتے رہنا بھى عجب کارِ محبت ہے کہ میں
اپنى آواز کى تنہائى سے پہچانا گیا
مر بھی جاؤں تو بھلا کون قفس کھولتا ہے
دل تو ہر دور میں پروائی سے پہچانا گیا
ڈر کی دہلیز مجھے شکل سے پہچانتی تھی
پھر بھی میں آنکھ کی گہرائی سے پہچانا گیا
اسامہ خالد
No comments:
Post a Comment