Tuesday, 13 October 2020

ترے ذوق نے وہ ثمر مری تہی ڈالیوں پہ لگا دیا

 تِرے ذوق نے وہ ثمر مِری تہی ڈالیوں پہ لگا دیا

مجھے گیت بھی نہیں بھا رہے تھے قوالیوں پہ لگا دیا

اسے کیا غرض کہ کہانی اس کی گرفت میں نہیں آ رہی

جہاں بھُولے اس نے مکالمے ہمیں تالیوں پہ لگا دیا

اسے زہر دے کے بچا لیا کہ وہ زہر اُگلے وجود سے

وہ بھری ہوئی تھی غبار سے اسے گالیوں پہ لگا دیا

کسی بے ضرر کو عطا نہیں ہوئی اس کے باغ کی افسری

وہ جو پھول توڑنے آئے تھے انہیں مالیوں پہ لگا دیا

مجھے شک ہے تیرے سنار پر نہیں لگ رہے مجھے یہ گہر

کہیں چاند تو نہیں کاٹ کر تِری بالیوں پہ لگا دیا


اظہر فراغ

No comments:

Post a Comment