اے محبت! مجھ کو ایسا حوصلہ خیرات کر
اس کو بازو سے پکڑ کر کہہ سکوں کہ بات کر
جس طرح میں تجھ سے ملتا ہوں کسی کی اوٹ میں
اس طرح کا اک بہانہ تُو بھی میرے ساتھ کر
آنسوؤں کو بام پہ رکھ دل کو پھٹنے دے ذرا
ہجر کی اس رات کو بھی تُو شبِ بارات کر
اے مِرے ظالم بچے ہیں دو ہی اب تو راستے
یا مجھے تُو قتل کر دے یا مجھے تُو مات کر
اب کے میں دانستہ آیا ہوں تِری دہلیز پر
اب جلا اتنا کہ کندن اے غمِ حالات کر
کٹ تو سکتا ہوں مگر میں جھک نہیں سکتا کبھی
ماں نے پالا ہے مجھے دن رات چرخہ کات کر
ہم تو دن کی روشنی میں لٹ چکے ہیں اے خدا
اب تو سورج کو بجھا دے اور لمبی رات کر
اب یقیناً بھر چکی ہے ظلم سے یہ زندگی
اب تو ظاہر میرے مولا وہ رخِ آیات کر
فخر عباس
No comments:
Post a Comment