Tuesday, 22 June 2021

میں اس کو بھولنا چاہوں وہ مجھ کو یاد آئے

خدا کریم ہے اتنا کرم ہی فرمائے

میں اس کو بھولنا چاہوں وہ مجھ کو یاد آئے

فضا میں نور ہواؤں میں اس کی خوشبو ہے

ٹھہر اے وقت! کہ جان بہار آ جائے

وفا خلوص و محبت کی یہ امانت ہے

غم حیات کی سرخی جبیں پہ لہرائے

تمہاری چاہ طرب خیز وادیوں کا سفر

ہمارے ساتھ ہیں محرومیوں کے سرمائے

گرا کے برق جلایا ہے آشیاں دل کا

تِرے لبوں پہ تبسم کچھ ایسے لہرائے

کہاں مثال ہے روشن جمال کی نشتر

بدن کو چھو کے جسے چاندنی بھی شرمائے


ابوالخیر نشتر

No comments:

Post a Comment