Thursday, 11 November 2021

کمرہ تو یہ کہتا ہے کچھ اور ہوا آئے

 کمرہ تو یہ کہتا ہے کچھ اور ہوا آئے

کھڑکی سے نہ گزرے تو دیوار ہٹا آئے

سر پر ہے سفر اتنا خاموش ہو تم جتنا

جیتے ہو کہ مرتے ہو کوئی تو صدا آئے

آگے جو قدم رکھا پیچھے کا نہ غم رکھا

جس راہ سے ہم گزرے دیوار اٹھا آئے

اے منتظم ہستی اک چھوٹی سی خواہش ہے

اس دن مجھے جینے دے جس روز قضا آئے

اب اس کو نمو دیکھیں دیتا ہے شجر کیسے

ٹوٹی ہوئی کچھ شاخیں مٹی میں دبا آئے


حلیم ‌قریشی

No comments:

Post a Comment