گھر سے نکل پڑے ہیں تو ڈر پیچھے رہ گیا
اب دشت ہی مکان ہے، پیچھے رہ گیا
سارے مسافروں کے قدم ہیں رکے رکے
جیسے سبھی کا زادِ سفر پیچھے رہ گیا
کٹ کر بدن تو غیر کے آنگن میں جا گرا
لیکن انا کے زور پہ سر پیچھے رہ گیا
کشتی جب آدھی ڈوب چکی تھی تو اس گھڑی
کچھ لوگ کہہ رہے تھے بھنور پیچھے رہ گیا
کانٹوں کی باڑ سے میں نکل تو گیا حلیم
شاخیں گرفت میں ہیں، ثمر پیچھے رہ گیا
حلیم قریشی
No comments:
Post a Comment