Monday, 15 November 2021

وہی طویل سی راہیں سفر وہی تنہا

 وہی طویل سی راہیں سفر وہی تنہا

بڑا ہجوم ہے پھر بھی ہے زندگی تنہا

تِرے بغیر اجالے بھی تیرہ ساماں ہیں

بھٹک رہی ہے نگاہوں کی روشنی تنہا

جہاں جہاں بھی گئی غم کے آس پاس رہی

کسی مقام پہ دیکھی نہیں خوشی تنہا

شعورِ دید کا انجام دیکھیۓ کیا ہو

ہجوم‌ِ وہم و گماں، اور آگہی تنہا

خود اپنے شہر میں بھی اب تو ہم کچھ ایسے ہیں

دیارِ غیر میں جیسے اک اجنبی تنہا

کسی نے ساتھ نبایا بھی تو بچھڑنے کو

رہی ہے اپنے پرایوں میں زندگی تنہا

خود اپنے آپ سے بیگانگی کا عالم ہے

شریک بزمِ نگاراں بھی ہیں رشی تنہا


رشی پٹیالوی

No comments:

Post a Comment