Monday, 15 November 2021

ہم نے اس کی عطا کو اوڑھ لیا

 ہم نے اُس کی عطا کو اوڑھ لیا

اپنی ماں کی دعا کو اوڑھ لیا

روکتے رہ گئے سبھی تم کو

پھیر کر منہ قضا نے اوڑھ لیا

دن کی تلچھٹ کو پی کے سورج نے

منہ پہ کالی ردا کو اوڑھ لیا

وادیٔ دل نے شام ڈھلنے پر

غم کی کالی گھٹا کو اوڑھ لیا

سنگِ دشنام،۔ چادرِ الزام

ہم نے تیری بلا کو اوڑھ لیا

پگڑیاں آندھیوں کی نذر ہوئیں

جھک کے سر نے ہوا کو اوڑھ لیا

ضائع پھیرا گیا نہ یہ شہلا

بند در نے صدا کو اوڑھ لیا

 

شہلا نقوی

No comments:

Post a Comment