اک مسئلہ ہے اپنے ہی دل کے وقار کا
کیا ماجرا سناؤں غمِ قسط وار کا
اپنی ہی آگ میں مِرا جلنا وہ ہر گھڑی
آئینہ دیکھنا وہ تِرا بار بار کا
اب آ گیا ہے وقت کریں خود پہ اعتماد
اب ذکر ہے فضول کسی انحصار کا
کیوں کارواں سے اپنے بچھڑنا پڑا اسے
وہ آدمی تو تھا نہیں پچھلی قطار کا
سوچا نہ جاؤں بزم میں اس کی، مگر گیا
کب تھا معاملہ یہ مِرے اختیار کا
ہر بار بزمِ یار میں ہم خوار ہی ہوئے
پھر بھی نشہ اتر نہ سکا اعتبار کا
چھوٹی سی ہے تو کیا مِری دنیا مِری تو ہے
انجم کرم ہے یہ مِرے پروردگار کا
مشتاق انجم
No comments:
Post a Comment