ٹوٹی پھوٹی شاخوں میں جو اٹکے اٹکے پر ہوتے ہیں
پیڑوں کی بھی اک دنیا ہے پیڑوں میں بھی گھر ہوتے ہیں
باتیں اس کی پہنچ گئی ہوں، اس کو باتیں پہنچ نہ جائیں
دیکھ محبت! عہد میں تیرے کیسے کیسے ڈر ہوتے ہیں
غم تنہا جب دیکھے گا،۔ حملہ آور ہو جائے گا
تلواریں تب بھی چلتی ہیں جب ہم ننگے سر ہوتے ہیں
یاروں کی محفل سے اچھی اک محفل وہ بھی ہوتی ہے
تنہائی کی آوازوں میں، شام کو جب ہم گھر ہوتے ہیں
حلیم قریشی
No comments:
Post a Comment