Friday, 12 November 2021

ٹوٹی پھوٹی شاخوں میں جو اٹکے اٹکے پر ہوتے ہیں

 ٹوٹی پھوٹی شاخوں میں جو اٹکے اٹکے پر ہوتے ہیں

پیڑوں کی بھی اک دنیا ہے پیڑوں میں بھی گھر ہوتے ہیں

باتیں اس کی پہنچ گئی ہوں، اس کو باتیں پہنچ نہ جائیں

دیکھ محبت! عہد میں تیرے کیسے کیسے ڈر ہوتے ہیں

غم تنہا جب دیکھے گا،۔ حملہ آور ہو جائے گا

تلواریں تب بھی چلتی ہیں جب ہم ننگے سر ہوتے ہیں

یاروں کی محفل سے اچھی اک محفل وہ بھی ہوتی ہے

تنہائی کی آوازوں میں، شام کو جب ہم گھر ہوتے ہیں


حلیم ‌قریشی

No comments:

Post a Comment