Friday, 12 November 2021

اجنبی سی لگ رہی ہے جانی پہچانی ہوا

 اجنبی سی لگ رہی ہے جانی پہچانی ہوا

چل رہی ہے شہر میں یہ کیسی دیوانی ہوا

نذرِ آتش ہو رہے ہیں پھر غریبوں کے مکاں

پھر چلی ہے شہر میں نفرت کی طوفانی ہوا

وادیوں میں ہر طرف آتا ہے سناٹا نظر

پھیر لیتی ہے جب اپنا رخ کہستانی ہوا

اک ذرا سی دیر میں انساں کا مٹ جائے وجود

وقت پر حاصل نہ ہو اُس کو اگر پانی ہوا

مطمئن ہے گلشنِ ہستی میں جب میرا ضمیر

مجھ کو بہکائے گی کیسے کوئی انجانی ہوا

گلستاں تبدیلیٔ موسم کی دیتا ہے خبر

کر رہی ہے آج کانٹوں پر گل افشانی ہوا

ہو کے حائل کس لیے راہِ ترقی میں کمال

مانگتی ہے مجھ سے محنت اور قربانی ہوا


کمال جعفری

No comments:

Post a Comment