Wednesday, 4 August 2021

درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے

 درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے

زندگی بے مزا نہ ہو جائے

ان تلوّن مزاجیوں کا شکار

کوئی میرے سوا نہ ہو جائے

لذت انتظار ہی نہ رہے

کہیں وعدہ وفا نہ ہو جائے

تیری رفتار اے معاذاللہ

حشر کوئی بپا نہ ہو جائے

کامیابی ہی کامیابی ہو

تو یہ بندہ خدا نہ ہو جائے

میری بےتابیوں سے گھبرا کر

کوئی مجھ سے خفا نہ ہو جائے

کچھ تو اندازۂ جفا کیجئے

دل ستم آشنا نہ ہو جائے

کہیں ناکامئ اثر آخر

مدعائے دعا نہ ہو جائے

وہ نگاہیں نہ پھیر لیں اختر

عشق بے آسرا نہ ہو جائے


علیم اختر

No comments:

Post a Comment