Friday, 15 October 2021

سبھی امیروں کے تاج خطرے میں آ گئے تھے

 سبھی امیروں کے تاج خطرے میں آ گئے تھے

کچھ ایسے سکے ہمارے کاسے میں آ گئے تھے

ہمیں بھی فاقہ کشی نے کافر بنا دیا ہے

خیال روٹی کے آج سجدے میں آ گئے تھے

تمہارے آنگن کی تتلیاں تھیں ہمارے گھر میں

ہمارے جگنو تمہارے کمرے میں آ گئے تھے

گیا جو مندر تو پھر نہ مسجد کی چھت پہ بیٹھا

مزاج لوگوں کے اک پرندے میں آ گئے تھے

کسی بھی گوشے میں چاہتوں کی تپش نہیں تھی

وہ تیرا دل تھا یا سرد خانے میں آ گئے تھے

میں آدھا پڑھ کر وفا کے قصے کو چھوڑ آیا

تمہاری بستی کے لوگ قصے میں آ گئے تھے

بچھڑتے لمحے جو اشک ہاتھوں پہ آ گرا تھا

تمام دریا اس ایک قطرے میں آ گئے تھے

اسے محبت کی پائمالی نہیں کہو گے؟

رضا وہ ملنے کسی کے صدقے میں آ گئے تھے


رضا حیدری

No comments:

Post a Comment