کم نگاہی بھی روا تھی شاید
آنکھ پابندِ حیا تھی شاید
سر سے آنچل تو نہ ڈھلکا تھا کبھی
ہاں، بہت تیز ہوا تھی شاید
ایک بستی کے تھے راہی دونوں
راہ میں دیوارِ انا تھی شاید
ہمسفر تھے تو وہ بچھڑے کیوں تھے
اپنی منزل ہی جُدا تھی شاید
میری آنکھوں میں اگر آنسو تھے
میرے ہونٹوں پہ دُعا تھی شاید
پروین فنا سید
No comments:
Post a Comment