Thursday, 15 April 2021

کتنے سارے رشتے تم سے تم ہی سہیلی اور بہن بھی

 میری ادیبہ


کتنے سارے رشتے تم سے

تم ہی سہیلی اور بہن بھی

تم نے میری ویراں زیست میں

پھول کھلائے اپنی ہنسی کے

میرے دکھ کے قطروں کو

دامن پر لیتی

میری فکر کی ہر کروٹ کو

دل پر سہتی

میری اپنی پیاری ادیبہ

ساتھ ہی رہنا میرے ہمیشہ

جیسے اب ہو

جلتی دھوپ میں سائے جیسی

ماں ہو کوئی


گلزیب زیبا

No comments:

Post a Comment