میری ادیبہ
کتنے سارے رشتے تم سے
تم ہی سہیلی اور بہن بھی
تم نے میری ویراں زیست میں
پھول کھلائے اپنی ہنسی کے
میرے دکھ کے قطروں کو
دامن پر لیتی
میری فکر کی ہر کروٹ کو
دل پر سہتی
میری اپنی پیاری ادیبہ
ساتھ ہی رہنا میرے ہمیشہ
جیسے اب ہو
جلتی دھوپ میں سائے جیسی
ماں ہو کوئی
گلزیب زیبا
No comments:
Post a Comment