Thursday, 15 April 2021

پگلی سپنے بنتے نیناں پر

 پگلی


سپنے بنتے نیناں پر

ہونٹ جب اپنے رکھ دو گے

دھیرے دھیرے سرگوشی میں، کانوں سے کچھ کہہ دو گے

اور میں آنکھیں موندے موندے

کروٹ اپنی بدلوں گی

گہری نیند کی شوخ ادا کو، چپکے چپکے کھولوں گی

آنچل میں چہرے کو چھپا کر، کن اکھیوں سے دیکھوں گی

چاند کی چوڑی سے کرنیں، چھن چھن، چھن چھن، ٹوٹیں گی

جھیل سی ٹھہری دھڑکن اس دم

دھک دھک، دھک دھک بولے گی

اور تم بھی، دھیرے سے ہنس کر

مجھ کو کہہ دو گے

پگلی


فرزانہ نیناں

No comments:

Post a Comment