وہ اپنا جسم تو لایا تھا دل کو لایا نہیں
سو میرے پاس یوں آیا تھا جیسے آیا نہیں
مجھے بھی مل گئی لگ کر قطار میں قسمت
یہ جبر وہ ہے جو میں نے کبھی بھلایا نہیں
گواہی کس لیے آدھی ہے پوری عورت کی
یہ فلسفہ تو کسی کی سمجھ میں آیا نہیں
کہیں تو آ کے ہمیں ختم ہونا پڑتا ہے
چراغ بجھنے سے پھلے یہ جان پایا نہں
مِرا مزاج ہے بس ایک تجربہ روحی
کسی کو بارِ دگر میں نے آزمایا نہیں
ریحانہ روحی
No comments:
Post a Comment