Thursday, 15 April 2021

وہ اپنا جسم تو لایا تھا دل کو لایا نہیں

 وہ اپنا جسم تو لایا تھا دل کو لایا نہیں

سو میرے پاس یوں آیا تھا جیسے آیا نہیں

مجھے بھی مل گئی لگ کر قطار میں قسمت

یہ جبر وہ ہے جو میں نے کبھی بھلایا نہیں

گواہی کس لیے آدھی ہے پوری عورت کی

یہ فلسفہ تو کسی کی سمجھ میں آیا نہیں

کہیں تو آ کے ہمیں ختم ہونا پڑتا ہے

چراغ بجھنے سے پھلے یہ جان پایا نہں

مِرا مزاج ہے بس ایک تجربہ روحی

کسی کو بارِ دگر میں نے آزمایا نہیں


ریحانہ روحی

No comments:

Post a Comment