محبت میں عبادت کا تصور لازمی لاؤ
بدن آدھی گواہی ہے شہادت روح کی لاؤ
بدن کی آیتیں پڑھ کر فراموشی گنہ بدتر
تمہیں ایمان لانا ہے تو مجھ پر دائمی لاؤ
مِری مٹی کی دہری ہجرتوں کا بانٹنے کو غم
نہیں ملتا اگر دریا تو کوئی دشت ہی لاؤ
ارے تم نے نہیں دیکھا ستارے ساتھ ٹُوٹے تھے
اگر پھر دیکھنا چاہو تو آنکھوں میں نمی لاؤ
مقدس ہیں صحیفوں کی طرح یہ جاگتی آنکھیں
تلاوت کے لیے ان کی طہارت سرمدی لاؤ
ذرا سی موج لے کر آدمی کو ڈوب جاتی ہے
سمندر میں اترنا ہے تو کشتی نوح کی لاؤ
سبھی پہلے پہل ملتے ہیں بے حد گرمجوشی سے
ہمارے سامنے اپنا رویہ آخری لاؤ
نینا عادل
No comments:
Post a Comment