Thursday, 15 April 2021

دن کی گہری دھوپ نے جو جو گھاؤ دئیے ہیں

 شام


دن کی گہری دھوپ نے

جو جو گھاؤ دئیے ہیں

ان میں میرے درد کا کوئی بھید نہ ڈھونڈو

میرے دُکھ تو ان دیکھے ہیں

دیکھو

اس دیوار کے پیچھے

برسوں کی نفرت سے گھائل

تھکی ہوئی انجانی یادیں

پتیاں بن کے بکھر گئی ہیں

دور آکاش کے اس کونے میں

ایک میلی چادر میں لپٹی شام کھڑی ہے

آؤ چلیں اس شام کی چادر میں چھپ جائیں

شام جو ہم دُکھیوں کی ماں ہے


احمد ہمیش

No comments:

Post a Comment