Friday, 16 April 2021

مت بھول حسیں تجھ پہ کرم کرتے رہیں گے

 مت بھول، حسیں تجھ پہ کرم کرتے رہیں گے

یہ لوگ ستم گر ہیں، ستم کرتے رہیں گے

جو عشق کے بندے ہیں وفا جن کا ہے شیوہ

سر حُسن کی دہلیز پہ خم کرتے رہیں گے

ہر لمحہ تیری یاد سے بہلائیں گے دل کو

آنکھ اپنی تِرے ہجر میں نم کرتے رہیں گے

جب تک کہ رعونت ہے شہنشاہوں میں باقی

مزدور کے یہ ہاتھ قلم کرتے رہیں گے

بخشا ہے ہمیں عشق نے تسلیم کا جذبہ

ہر بات تِری دل پہ رقم کرتے رہیں گے


صائمہ نورین

No comments:

Post a Comment