Thursday, 15 April 2021

خواب آنکھوں سے سارے جدا ہو گئے

 خواب آنکھوں سے سارے جدا ہو گئے

پیار جن سے کیا بے وفا ہو گئے

تجھ سے پہلے نہ دستِ دعا اٹھ سکا

تجھ کو دیکھا مجسم دعا ہو گئے

دیکھ لیجے محبت کی شرشاریاں

حسن کا آپ تو آئینہ ہو گئے

اک نظر تیری نظروں سے کیا مل گئی

آپ تو دل ربا، دلربا ہو گئے


ثمینہ سید

No comments:

Post a Comment