کوئی ایسا حرفِ دعا ملے
جو ادا کروں تو قبول ہو
تیری قربتیں ہوں نصیب تو
تیرے وصل کی تیری چاہ کی
سبھی راحتیں بھی قریب ہوں
میرا بخت ہو تیرا نام ہو
تو کوئی ستارۂ شام ہو
جو چمک اٹھے تو حیات کے
سبھی راستوں میں دیے جلیں
جسے دیکھ لوں تو ہزار رنگ
میری چنریوں میں بھرے رہیں
جسے چھو کے میرے وجود کے
تمام زخم بھرے رہیں
کوئی ایسا حرفِ دعا بھی ہو
جو ادا کروں مجھے تو ملے
صائمہ شہاب
No comments:
Post a Comment