Thursday, 15 April 2021

خزاں نے کہا یہ بہار آ نہ جائے

 خزاں نے کہا یہ، بہار آ نہ جائے

دلِ مضطرب کو قرار آ نہ جائے

نہ یوں میٹھی میٹھی نگاہوں سے دیکھو

ہمیں پیار دیوانہ وار آ نہ جائے

یہ جشن طرب ہے، یہاں سخت پہرے

اچانک کوئی دل فگار آ نہ جائے

وطن کی محبت میں محصور ہے جو

کہیں وہ غریب الدیار آ نہ جائے

وڈیروں کو ہے فکر، ہاری کی کشتی

تلاطم سے غربت کے، پار آ نہ جائے

نگاہوں میں فردِ عمل اپنی رکھو

اچانک وہ روزِ شمار آ نہ جائے

کہا پھول نے، گل سے بھر لیں وہ دامن

کہیں ان کے دامن میں خار آ نہ جائے


تنویر پھول

No comments:

Post a Comment