خزاں نے کہا یہ، بہار آ نہ جائے
دلِ مضطرب کو قرار آ نہ جائے
نہ یوں میٹھی میٹھی نگاہوں سے دیکھو
ہمیں پیار دیوانہ وار آ نہ جائے
یہ جشن طرب ہے، یہاں سخت پہرے
اچانک کوئی دل فگار آ نہ جائے
وطن کی محبت میں محصور ہے جو
کہیں وہ غریب الدیار آ نہ جائے
وڈیروں کو ہے فکر، ہاری کی کشتی
تلاطم سے غربت کے، پار آ نہ جائے
نگاہوں میں فردِ عمل اپنی رکھو
اچانک وہ روزِ شمار آ نہ جائے
کہا پھول نے، گل سے بھر لیں وہ دامن
کہیں ان کے دامن میں خار آ نہ جائے
تنویر پھول
No comments:
Post a Comment