Thursday, 15 April 2021

وہ غزل کی کتاب ہے پیارے

 وہ غزل کی کتاب ہے پیارے

اس کو پڑھنا ثواب ہے پیارے

وہ کبھی نرم چاندنی سی لگے

اور کبھی آفتاب ہے پیارے

عمر کچی ہے عشق کیا جانے

خامشی بھی جواب ہے پیارے

اپنے ہاتھوں پلائے خوشبو تو

سادہ پانی شراب ہے پیارے

اس کو پڑھنا تو چوم کر پڑھنا

وہ خدا کی کتاب ہے پیارے

اس کو دیکھو لباس مت دیکھو

وہ پہاڑی گلاب ہے پیارے

ہنس کے جینے کا تم ہنر سیکھو

زندگی لا جواب ہے پیارے

وہ جو آتا ہے شب ڈھلے انظر

تیرا سچا وہ خواب ہے پیارے


عتیق انظر

No comments:

Post a Comment