وہ کاش مان لیتا کبھی ہم سفر مجھے
تو راستوں کے پیچ کا ہوتا نہ ڈر مجھے
بے شک یہ آئینہ مجھے جی بھر سنوار دے
پر دیکھتی نہیں ہے اب اس کی نظر مجھے
دیوار جو گری ہے تو الزام کس کو دوں
میری خوشی ہی لائی تھی ساجن کے گھر مجھے
مایوسیوں نے شکل کی رنگت بگاڑ دی
پہچانتا نہیں ہے مِرا ہی نگر مجھے
آئی تھی اس طرف تو کیوں مجھ سے ملی نہیں
اب کے بہار لگ رہی ہے مختصر مجھے
میں چاندنی ہوں نور ہے مجھ سے جہان میں
دکھلا رہا ہے کون اندھیرے کا ڈر مجھے
چاندنی پانڈے
No comments:
Post a Comment