Thursday, 15 April 2021

وہ کاش مان لیتا کبھی ہمسفر مجھے

 وہ کاش مان لیتا کبھی ہم سفر مجھے

تو راستوں کے پیچ کا ہوتا نہ ڈر مجھے

بے شک یہ آئینہ مجھے جی بھر سنوار دے

پر دیکھتی نہیں ہے اب اس کی نظر مجھے

دیوار جو گری ہے تو الزام کس کو دوں

میری خوشی ہی لائی تھی ساجن کے گھر مجھے

مایوسیوں نے شکل کی رنگت بگاڑ دی

پہچانتا نہیں ہے مِرا ہی نگر مجھے

آئی تھی اس طرف تو کیوں مجھ سے ملی نہیں

اب کے بہار لگ رہی ہے مختصر مجھے

میں چاندنی ہوں نور ہے مجھ سے جہان میں

دکھلا رہا ہے کون اندھیرے کا ڈر مجھے


چاندنی پانڈے

No comments:

Post a Comment