مجھ پہ کیا وار کر دیا تُو نے
میرا انکار کر دیا تو نے
میرے خوابوں کی اک حویلی تھی
اس کو مسمار کر دیا تو نے
زندگی سے بھری ہوئی تھی میں
دشت آثار کر دیا تو نے
کتنی آسان تھی کبھی میں بھی
کتنا دشوار کر دیا تو نے
اک وہی تھا فرار کا رستہ
جس کو دیوار کر دیا تو نے
پھر سے سجدے میں یاد آئی تِری
پھر گُنہ گار کر دیا تو نے
زندگی جُرم تو نہیں تھی کنول
جس کا انکار کر دیا تو نے
کنول ملک
No comments:
Post a Comment