Wednesday, 14 September 2022

مرے دل میں عشق رسول ہو مجھے فکر سود و زیاں نہیں

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مرے دل میں عشقِ رسولؐ ہو مجھے فکرِ سود و زیاں نہیں

غمِ مصطفٰیؐ جو نہ ہو اگر،کسی غم سے مجھ کو اماں نہیں

مجھے خواہشوں میں لُبھا دیا، یہ نفس ہے کتنی بُری بلا

کروں سامنا میں حضورؐ کا مِرے دل میں تاب و تواں نہیں

یہ قسم کہ سر نہ اٹھاؤں گا، یہ بھرم کہ لب نہ ہلاؤں گا

یہ یقیں کہ سب یہیں پاؤں گا، کوئی بات ان سے نہاں نہیں

مِرے دل نظر میں سمائیے، مجھے آپﷺ اپنا بنائیے

کہ سوائے آپؐ کے یا نبیؐ، کوئی اور جانِ جہاں نہیں

وہ بشیرؐ ہیں، وہ نذیرؐ ہیں، وہ سراجؐ ہیں وہ منیرؐ ہیں

یہ کہا ہے ربِّ قدیر نے، یہ ہمارا طرزِ بیاں نہیں

وہ حبیبِﷺ ربّ العالمیں، وہ ہیں رحمۃ للعالمیںﷺ

وہی زندگی کی ہیں روشنی، وہ نہیں تو بزمِ جہاں نہیں

رہِ مصطفٰیﷺ ہے رہِ خدا، وہ ملیں تو سمجھو خدا ملا

میں ہوں طالبِ درِ مصطفٰیﷺ، میں اسیرِ کوئے بُتاں نہیں


محمود احمد غزنوی 

No comments:

Post a Comment