Saturday, 24 April 2021

بہ فیض آگہی یہ کیا عذاب دیکھ لیا

 بہ فیضِ آگہی یہ کیا عذاب دیکھ لیا

کہ خود ہی اپنے کئے کا حساب دیکھ لیا

یہ نسل نسل مسافت بہل رہی ہے یوں ہی

سراب جاگتے سوتے میں خواب دیکھ لیا

دلوں کی تیرگی دھونے کو لوگ اُٹھے ہیں جب

چھتوں پر اُترا ہوا آفتاب دیکھ لیا

سروں سے تاج بڑے جسم سے عبائیں بڑی

زمانے ہم نے تِرا انتخاب دیکھ لیا

وہ فاختہ جسے لانا تھا امن کا پیغام

اُڑی نہیں تھی کہ اُس نے عقاب دیکھ لیا

کبھی وہ کھُل کے کبھی سرسری ملا ہم سے

کبھی ہلال، کبھی ماہتاب دیکھ لیا

کتاب پڑھنے کی فُرصت یہاں کسے انجم

بہت ہوا تو فقط انتساب دیکھ لیا


انجم خلیق

No comments:

Post a Comment