کیا تم نے بھی ہے کل رتجگا کیا
تمہیں بھی عشق ہم سے ہو گیا کیا
مِرا تُو مُدعا تُو مسئلہ تھی
بِچھاتا گر تجھے تو اوڑھتا کیا
یہاں جس کو بھی دیکھو زعم میں ہے
ہمارے شہر کو آخر ہوا کیا
مِرے اطراف میں تیری صدا تھی
تجھے دَیر و حرم میں ڈھونڈتا کیا
ہے تیرے ذہن میں ترکِ تعلق
تجھے پھر ہم سا کوئی مل گیا کیا
بھٹکنا جب میری قسمت میں شامل
پتہ صحراؤں کا پھر پوچھنا کیا
میں اس کے ساتھ اُڑتا جا رہا تھا
مِرے پیچھے تھی وہ بہکی ہوا کیا
زمانہ پر بھروسہ کر لیا ہے
نؔظر تُو ہو گیا ہے باؤلا کیا
نذیر نظر
No comments:
Post a Comment