Saturday, 24 April 2021

خیال یار ہے میں ہوں

 خیالِ یار ہے، میں ہوں

ابھی ہے پیار تو، میں ہوں

وہ جو بے بات ڈرتا ہے

پتا بھی ہے اسے میں ہوں

یقیں تھا ہی نہیں  پھر بھی

وہ کیوں کہتا رہا؛ میں ہوں

اُدھر بھی عکس میرا ہے

کیا اِس پار بھی میں ہوں

میں ہوں یا ہونا باقی ہوں

ابھی تو کھوج میں، میں ہوں


رضا نقوی

No comments:

Post a Comment