Saturday, 24 April 2021

خوابوں سے نہ جاؤ کہ ابھی رات بہت ہے

 خوابوں سے نہ جاؤ کہ ابھی رات بہت ہے

پہلو میں تم آؤ کہ ابھی رات بہت ہے

جی بھر کے تمہیں دیکھ لوں تسکین ہو کچھ تو

مت شمع بجھاؤ کہ ابھی رات بہت ہے

کب پَو پھَٹے، کب رات کٹے، کون یہ جانے

مت چھوڑ کے جاؤ کہ ابھی رات بہت ہے

رہنے دو ابھی چاند سا چہرہ مِرے آگے

مے اور پلاؤ کہ ابھی رات بہت ہے

کٹ جائے یوں ہی پیار کی باتوں میں ہر اک پل

کچھ جاگو جگاؤ کہ ابھی رات بہت ہے


صابر دت

No comments:

Post a Comment