Sunday, 25 April 2021

اگر اس شخص کے بازو گلے کا ہار بن جائیں

 اگر اُس شخص کے بازو گلے کا ہار بن جائیں

تو ہم بے جان مٹی سے گُل و گُلزار بن جائیں

تِرے دربار سے خالی کوئی جاتا نہیں مولا

اگرچہ حسرتوں کا ہم کوئی بازار بن جائیں

بُرے حالات میں بھی زندگی پھر مسکرا تی ہے

بھری دنیا میں مخلص دوست گر دو چار بن جائیں

اگر ماں کی دعائیں ساتھ نا لے کر چلیں گھر سے

ہمارے واسطے سب راستے دشوار بن جائیں

بڑی حسرت ہے دل میں دیکھنے اور بات کرنے کی

سفر میں ہمسفر میرے فقط اک بار بن جائیں

اگر کچھ لوگ میرے واسطے کرنا بھی چاہیں کچھ

عبث کچھ لوگ جل کر راہ میں دیوار بن جائیں

شفیق اِس بے حسی کے دور میں شہرت نہیں ملنی

اگر اردو غزل کا ہم کڑا معیار بن جائیں


شفیق عطاری

No comments:

Post a Comment