Sunday, 25 April 2021

پہلوئے غیر میں دکھ درد سمونے نہ دیا

 پہلوئے غیر میں دکھ درد سمونے نہ دیا

دامن وصل میں اک ہجر نے رونے نہ دیا

رنج یہ ہے کہ مِرا درد سے مہکا ہوا تیر

اس وفا سوز نے پہلو میں کھبونے نہ دیا

عشق وہ شعلۂ سفاک ہے جس نے مجھ پر

آگ جاری رکھی اور راکھ بھی ہونے نہ دیا

تجھ کو تا ہجر رہا تھا مِری وحشت سے گریز

اسی وحشت نے تِری یاد کو کھونے نہ دیا

شرم آتی ہے بہت ایسی سبکدوشی پر

عشق کا بوجھ بھی اس زیست نے ڈھونے نہ دیا


کاشف رضا

No comments:

Post a Comment