یہی تو ہوتا رہا ہے یہی تو ہونا ہے
جو ہاتھ میں ہے سرِ دست وہ بھی کھونا ہے
ہنوز کام یہ پیش ہے ستم گر کو
اب آستین سے میرا لہو بھی دھونا ہے
غریب خانے میں ممکن نہیں راحتِ شب
بدن سمیٹ کے لیٹو ہمیں بھی سونا ہے
وہ منفرد ہے ہماری گلی کے بچوں میں
کہ اُس کے ہاتھ میں مٹی کا اک کھلونا ہے
یہ شغلِ شعر و سخن بھی عذاب ہے اشعر
خود اپنے خون میں اپنا قلم ڈبونا ہے
علی مطہر اشعر
No comments:
Post a Comment