Sunday, 25 April 2021

یہی تو ہوتا رہا ہے یہی تو ہونا ہے

یہی تو ہوتا رہا ہے یہی تو ہونا ہے

جو ہاتھ میں ہے سرِ دست وہ بھی کھونا ہے

ہنوز کام یہ پیش ہے ستم گر کو

اب آستین سے میرا لہو بھی دھونا ہے

غریب خانے میں ممکن نہیں راحتِ شب

بدن سمیٹ کے لیٹو ہمیں بھی سونا ہے

وہ منفرد ہے ہماری گلی کے بچوں میں

کہ اُس کے ہاتھ میں مٹی کا اک کھلونا ہے

یہ شغلِ شعر و سخن بھی عذاب ہے اشعر

خود اپنے خون میں اپنا قلم ڈبونا ہے


علی مطہر اشعر

No comments:

Post a Comment