Saturday, 24 April 2021

ترے قریب بھی دل کچھ بجھا سا رہتا ہے

 تِرے قریب بھی دل کچھ بُجھا سا رہتا ہے

غمِ فراق کا کھٹکا لگا سا رہتا ہے

نہ جانے کب نِگہِ باغباں بدل جائے

ہر آن پھُولوں کو دھڑکا لگا سا رہتا ہے

ہزاروں چاند ستارے نکل کے ڈُوب گئے

نگر میں دل کے سدا جھٹپٹا سا رہتا ہے

تمہارے دَم سے ہیں تنہائیاں بھی بزمِ نشاط

تمہاری یادوں کا اک جمگھٹا سا رہتا ہے

وہ اک نگاہ کہ مفہوم جس کے لاکھوں ہیں

اسی نگاہ کا اک آسرا سا رہتا ہے

تمہارے عشق نے ممتاز کر دیا دل کو

یہ سب سے مل کے بھی سب سے جُدا سا رہتا ہے


ممتاز میرزا

No comments:

Post a Comment