فِرقوں میں بٹ گئے تو مصیبت میں پڑ گئے
بگڑے ہوئے کچھ اور زیادہ بگڑ گئے
گولی چلی تو شہر میں کُہرام مچ گیا
افسوس کتنی ماؤں سے بچے بچھڑ گئے
وحشت کے ہاتھ میں ہے گریبان زندگی
لو جامۂ وجود کے بخیے اُدھڑ گئے
نخلِ حیات! حُسن تِرا ماند پڑ گیا
شاخِ شباب دیکھ تِرے پھُول جھڑ گئے
یہ دُھن سوار ہے کہ سَدھا دوں حریف کو
یہ دیکھتا نہیں ہے کہ بچے بگڑ گئے
طوفانِ تُند و تیز کی شِدت کے سامنے
کتنے درخت تھے کہ جڑوں سے اُکھڑ گئے
ہنسنے نہ پائے تھے کہ مصیبت نے آ لیا
بسنے نہ پائے تھے کہ کئی گھر اُجڑ گئے
ناصر علی عوام نے فِرقوں کے روپ میں
جو سانپ پال رک ہے تھے وہ سانپ لڑ گئے
ناصر علی
No comments:
Post a Comment