Wednesday, 19 January 2022

خاک زادوں سے حوالے نہیں مانگا کرتے

 خاک زادوں سے حوالے نہیں مانگا کرتے

ہر پہیلی میں اشارے نہیں مانگا کرتے

یہ نشانی ہے محبت میں خفا ہونے کی

وہ سنورتے ہیں تو تحفے نہیں مانگا کرتے

اک ملاقات میں کھلتی نہیں اچھی لڑکی

اتنی عجلت میں ستارے نہیں مانگا کرتے

مانگ لیتے ہیں ضرورت کے علاوہ کچھ بھی

شاہ اچھا ہو تو ٹکڑے نہیں مانگا کرتے

سن اے شدت سے غلط بات پہ روٹھے ہوئے دوست

یار یاروں کے خسارے نہیں مانگا کرتے


صابر امانی

No comments:

Post a Comment