Wednesday, 19 January 2022

یہ تیری چاہ بھی کیا تیری آرزو بھی کیا

 یہ تیری چاہ بھی کیا تیری آرزو بھی کیا

ہمارے جسم میں یہ دوڑتا لہو بھی کیا

ہے جس کے دھیان میں ہر لمحہ خواب کا عالم

ملے کہیں تو کریں اس سے گفتگو بھی کیا

تِرے خیال کی خوشبو تِرے جمال کا رنگ

ہمارے دشت میں لیکن یہ رنگ و بو بھی کیا

یہ تپتی ریت یہ پیاسی زمیں یہاں لوگو

کسی کے پیار سے مہکی ہوئی نمو بھی کیا

ہزار کوہ و بیاباں کئے ہیں طے لیکن

ہوئے ہم آبلہ پایاں لہو لہو بھی کیا

کسی کی یاد میں کٹ جائے زندگی ساری

اک آرزو تو ہے لیکن یہ آرزو بھی کیا


احمد ہمدانی

No comments:

Post a Comment