Tuesday, 19 April 2022

دعا کرو مرے حق میں کہ میرے یار ملے

 دعا کرو مِرے حق میں کہ میرے یار ملے

مجھے بھی اب کوئی اچھا سا کاروبار ملے

انا پہ بوجھ ہے غیروں کی چاکری کرنا

ہو میرا اپنا خدایا! جو روزگار ملے

کئی برس کی تھکن دور ہو گئی میری

گلے میں ڈال کے باہوں کا جب وہ ہار ملے

تمہارے حسن کا صدقہ نکالنا ہے مجھے

یہ انتظار ہے کوئی رفیقِ کار ملے

بھروسہ آج بھی میرا تمہی پہ قائم ہے

کہ دھوکے تم سے اگرچہ ہیں بے شمار ملے

ہم آگئے ہیں بڑے تنگ اس حکومت سے

یہ حکمراں تو خدایا نہ بار بار ملے

امیرِ وقت جو مہنگا کرے نہ نان و نمک

غریبِ شہر کو شاید ذرا قرار ملے

کہ چاہ کر بھی مَیں شہزاد مسکرا نہ سکا

میں کیا کروں کہ مجھے لوگ سوگوار ملے



شہزاد مغل عجمی

No comments:

Post a Comment