عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
زندان میں عابدؑ سے سکینہؑ نے کہا ہے
بھیا! یہ جگہ کیسی ہے، دم گھٹنے لگا ہے
سجاد کے تپتے ہوئے زنجیر پہ چھڑکا
دو گھونٹ بھی جب پانی سکینہؑ کو ملا ہے
باطل کی ہمیشہ سے ہے تعداد زیادہ
لاکھوں کا نہیں دیکھو بہتّر کا خدا ہے
صدیوں سے ہے غمگین محرم کا مہینہ
ہم سے تو کہیں آگے حسینیؑ یہ فضا ہے
کربل کے اے بیمار! ہو تم دینِ مسیحا
اسلام تِرے خون کے اشکوں سے ہرا ہے
یاد آیا شجاعت سے شہادت کا سفر پھر
عباسؑ! تِرا جب بھی کہیں ذکر ہوا ہے
بے گور و کفن لاشہ ہے جنت کے مکیں کا
تطہیر کی وارث جو تھی محرومِ ردا ہے
فریاد سنو مولاؑ!! نشاط اپنے اٹھا ہاتھ
روزے پہ تِرے چشمِ تصور میں کھڑا ہے
نشاط عبیر
No comments:
Post a Comment