عارفانہ کلام نعتیہ کلام منقبت سلام
خیر الوریٰﷺ کا سارا گھرانہ اُداس ہے
مسجد تڑپ رہی ہے تو کعبہ اداس ہے
زنداں سے اٹھ گئی ہے عبادت کی روشنی
رنجور ہے نماز،۔ تو سجدہ اداس ہے
مرقد سے آ رہی ہے یہ آوازِ مصطفیٰؐ
لوگو! مِرے وجود کا حصہ اداس ہے
پاؤں میں بولتی ہیں سقیفہ کی بیڑیاں
لگتا ہے اب بھی پہلوئے زہراؑ اداس ہے
میں لکھ رہا ہوں موسیٰٔ کاظمؑ کا مرثیہ
ثاقب! مِرے خیال کی دنیا اداس ہے
عباس ثاقب
No comments:
Post a Comment