Tuesday, 15 February 2022

آؤ دیکھیں تو ذرا چل کے سر دار ہے کون

 آؤ دیکھیں تو ذرا چل کے سرِ دار ہے کون

کاسۂ سر کو لیے حق کا طلبگار ہے کون

بر سرِ منبر و محراب یہ کون آیا ہے

دلقِ تلبیس میں یہ صاحبِ دستار ہے کون

یہ تو مدہوشی میں کرتا ہے خرد کی باتیں

سرِ مے خانہ یہ بیٹھا ہوا میخوار ہے کون

جس نے مفلس کی غریبی کا اڑایا ہے مذاق

دُشمنِ حُرمتِ انسان یہ زردار ہے، کون

ہر کوئی اپنے مفادات کی دنیا کا اسیر

شہرِ آشوب میں اب بندۂپندار ہے کون

دل کی باتیں تو ہوئیں قصۂ ماضی اے دوست

خستہ دل لوگوں کا اب شہر میں دلدار ہے کون

جس کی آواز سے ہیں قصرِ سلاطیں لرزاں

جعفری دیکھنا یہ بر سرِ دربار ہے کون


مقصود جعفری

No comments:

Post a Comment