Wednesday, 16 February 2022

لٹی بہار کا سوکھا گلاب رہنے دو

 لٹی بہار کا سوکھا گلاب رہنے دو

ہماری آنکھوں میں کوئی تو خواب رہنے دو

نئے سرے سے چلو کوئی عہد کرتے ہیں

وفا جفا کا پرانا حساب رہنے دو

تمام عمر گزاری ہے ان دیاروں میں

خلوص ہو گا یہاں دستیاب رہنے دو

خمار اترا نہیں ہے ابھی تو اشکوں کا

ابھی یہ ساغر و مینا شراب رہنے دو

اٹھائے پھرتے ہو کیا شہرِ بے بصیرت میں

کسے دکھاؤ گے دل کی کتاب، رہنے دو

ابھی تو ہم پہ پرانے ہی قرض باقی ہیں

سوال کر کے نہ کہیۓ؛ جواب رہنے دو

گِرا ضرور ہے، لیکن مَرا نہیں اسلم

تکلفات مروت جناب رہنے دو


اسلم حبیب

No comments:

Post a Comment