لٹی بہار کا سوکھا گلاب رہنے دو
ہماری آنکھوں میں کوئی تو خواب رہنے دو
نئے سرے سے چلو کوئی عہد کرتے ہیں
وفا جفا کا پرانا حساب رہنے دو
تمام عمر گزاری ہے ان دیاروں میں
خلوص ہو گا یہاں دستیاب رہنے دو
خمار اترا نہیں ہے ابھی تو اشکوں کا
ابھی یہ ساغر و مینا شراب رہنے دو
اٹھائے پھرتے ہو کیا شہرِ بے بصیرت میں
کسے دکھاؤ گے دل کی کتاب، رہنے دو
ابھی تو ہم پہ پرانے ہی قرض باقی ہیں
سوال کر کے نہ کہیۓ؛ جواب رہنے دو
گِرا ضرور ہے، لیکن مَرا نہیں اسلم
تکلفات مروت جناب رہنے دو
اسلم حبیب
No comments:
Post a Comment