لو، چھوڑ کر چلے گئے آدھے سفر کے لوگ
میں تو سمجھ رہا تھا انہیں عمر بھر کے لوگ
چہرے پہ جم گئی ہے گزشتہ دنوں کی دھول
حیرت سے دیکھتے ہیں مجھے اپنے گھر کے لوگ
اڑنے لگی جو ڈار پرندوں کی، ڈال سے
غم بانٹنے کو آ گئے بوڑھے شجر کے، لوگ
جذبے اسیر ہو گئے زندانِ جبر میں
شہرِ ستم شعار میں جیتے ہیں مر کے لوگ
تشنہ لبی کے ساتھ رہا بے بسی کا کرب
دریا سے لوٹ آئے ہیں پیاسے نگر کے لوگ
بازارِ زر میں لے گئی مجبوریوں کی بھوک
سستے فروخت ہو گئے مہنگے ہنر کے لوگ
اک مضطرب چراغ پہ سایوں کا تھا ہجوم
شب بھر مجھے ڈراتے رہے بام و در کے لوگ
لپٹی ہوئی ہیں پاؤں سے وحشت کی بیڑیاں
اب راستوں کے بیچ میں چلتےہیں ڈر کے لوگ
ثاقب! فضا میں پھیل گئے خوف کے عقاب
اڑتے ہیں سہم سہم کے بے بال و پر کے لوگ
عباس ثاقب
No comments:
Post a Comment