شہرِ فراق
ہمارے شہر میں
اُداسی کو کئی طرف سے رسد آتی ہے
لیکن ہم اسے دل میں نہیں آنے دیتے
جب کسی سے گل دان ٹوٹ جاتا ہے
ہم کرچیاں ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں
جب کوئی پھول راستے میں گر جاتا ہے
ہم اسے دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں
مرنے والوں کی خبریں ہم
دو روٹیوں کے ساتھ ملنے والے اخبار میں پڑھ لیتے ہیں
اُداسی کو دل میں نہیں آنے دیتے
پڑوس میں تبدیل ہونے والی تختی
اور دفتر سے چلے جانے والے دوست
ہمارے قہقہوں سے باہر رہ جاتے ہیں
ہم زندگی کے ساتھ آگے نکل جاتے ہیں
بہت سارے قہقہے جمع کر کے
ہم اتنے قیمتی ہو جاتے ہیں
جیسے زندگی اور موت کے درمیان
کوئی نینو سیکنڈ
ہماری بولی نہیں لگائے گا
اگر ہم درخت پر اُگی ہوئی شاخ ہوتے
اور ہمیں ایک روز کاٹ دیا جاتا
تو درخت ہمیں زیادہ دنوں تک یاد رکھتا
لیکن ہم انسان ہیں
اور زندگی کی سڑک پر دوڑتے ہوئے
دائیں بائیں نہیں دیکھتے
ہم جو ایک روز گر جاتے ہیں
اور اپنے گرنے پر اُداس ہونے سے پہلے
زندگی ہم سے آگے نکل جاتی ہے
کاشف رضا
No comments:
Post a Comment