Wednesday, 11 August 2021

در پر ہوں تیرے زخم تمنا لیے ہوئے

 در پر ہوں تیرے، زخم تمنا لیے ہوئے

ہاتھوں میں اپنے عشق کا کاسہ لیے ہوئے

یہ بزم کس کی روشنی سے جگمگا اٹھی

آیا ہے کون؟ ساتھ اجالا لیے ہوئے

پھرتا ہے خوش خرام وہ اپنی نگاہوں میں

جام و سبو و ساغر و مینا لیے ہوئے

تشنہ بھٹک رہا ہوں میں صحرا و دشت میں

آنکھوں میں تیرے ہجر کا دریا لیے ہوئے

جاتا ہے تیری بزم سے ناکام و نامراد

ہر ایک شخص تیری تمنا لیے ہوئے

جب لڑکھڑائے، تھام لیا اس نے بڑھ کے ہاتھ

پھر لڑکھڑائے اس کا سہارا لیے ہوئے

تیرا خیال، تیری طلب، تیری آرزو

بیٹھا ہے میرا دل بھی یہ کیا کیا لیے ہوئے

منزل کا کچھ پتہ ہے نہ راہوں کی کچھ خبر

چلتا ہوں تیرا نقشِ کفِ پا لیے ہوئے

ہائے، وہ تیرا مڑ کے مجھے دیکھنا فہیم

سب دیکھتے ہیں آنکھ میں کانٹا لیے ہوئے


محمد فہیم

No comments:

Post a Comment