Wednesday, 11 August 2021

سمجھے تھے جس کو اپنا ہمارا نہیں تھا وہ

 سمجھے تھے جس کو اپنا ہمارا نہیں تھا وہ

ساحل سمجھ رہے تھے کنارا نہیں تھا وہ

مت رو دلِ شکستہ اسے یاد کر کے یوں

تم ہو گئے تھے جس کے، تمہارا نہیں تھا وہ

قوسِ قزح کی مثل وہ ابھرا تھا لمحہ بھر

تا عمر کے لیے تو نظارا نہیں تھا وہ

اس درد کے سہارے گزر جائے گی حیات

حاصل تھا زندگی کا خسارا نہیں تھا وہ

میرا خیال آتا تو آتا بھی کس طرح

میری طرح تو ہجر کا مارا نہیں تھا وہ

میں ہمسفر تھی اس کی دل و جان سے سحر

لیکن مِرے نصیب کا تارا نہیں تھا وہ


نادیہ سحر 

No comments:

Post a Comment