سمجھے تھے جس کو اپنا ہمارا نہیں تھا وہ
ساحل سمجھ رہے تھے کنارا نہیں تھا وہ
مت رو دلِ شکستہ اسے یاد کر کے یوں
تم ہو گئے تھے جس کے، تمہارا نہیں تھا وہ
قوسِ قزح کی مثل وہ ابھرا تھا لمحہ بھر
تا عمر کے لیے تو نظارا نہیں تھا وہ
اس درد کے سہارے گزر جائے گی حیات
حاصل تھا زندگی کا خسارا نہیں تھا وہ
میرا خیال آتا تو آتا بھی کس طرح
میری طرح تو ہجر کا مارا نہیں تھا وہ
میں ہمسفر تھی اس کی دل و جان سے سحر
لیکن مِرے نصیب کا تارا نہیں تھا وہ
نادیہ سحر
No comments:
Post a Comment