Friday, 13 August 2021

اچھا ہے تو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھے

 اچھا ہے تُو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھے

دنیا نے تیرے کام کا چھوڑا نہیں مجھے

ہاں ٹھیک ہے میں بُھولا ہُوا ہوں جہان کو

لیکن خیال اپنا بھی ہوتا نہیں مجھے

اب اپنے آنسوؤں پہ ہے سیرابئ حیات

کچھ اور اس فلک پہ بھروسا نہیں مجھے

ہے مہرباں کوئی جو کئے جا رہا ہے کام

ورنہ معاش کا تو سلیقہ نہیں مجھے

اے رہ گزارِ سلسلۂ عشقِ بے لگام

جانا کہاں ہے تُو نے بتایا نہیں مجھے

ہے تو مِرا بھی نام سرِ فہرسِ جنوں

لیکن ابھی کسی نے پکارا نہیں مجھے


فیضی

(محمد فیض)

No comments:

Post a Comment