Tuesday, 23 November 2021

اٹھا یہ بوجھ یہاں سے جہان خالی کر

 اُٹھا یہ بوجھ یہاں سے جہان خالی کر

وہ کہہ رہا ہے کہ میرا مکان خالی کر

کسی بھی سمت سے اُترے نہیں کوئی احکام

پہاڑ چھوڑ، دہکتی چٹان خالی کر

یہ شاملات میں آیا ہوا اثاثہ نہیں

سجا کے بیٹھا ہے خود کو دُکان خالی کر

کسی نے پڑھنی ہے پھر مِری سانس کی تسبیح

بھرے ہوئے ہیں مِرے جسم و جان خالی کر

تجھے بھی ڈر ہے کہ مسند نہ چھین لے کوئی

یہاں سے ہل، یہ فلک کی مچان خالی کر

سّموں کو روک لے، ریکھا سے پھیر پیچھے قدم

لگا ہوا ہے جہاں تک نشان، خالی کر


عابد خورشید

No comments:

Post a Comment