اپنی امانت لے جا
اے اجنبی
تُو کچھ یوں اُترا ہے
میرے دل کی گہرائیوں میں
جیسے سیپ میں
بارش کا قطرہ ٹھہر جائے
اور پھر موتی بن کر جگمگائے
میں ڈر کے مارے
چُپ ہو گیا ہوں
کہیں دنیا چھین نہ لے
اب تُو خود ہی آ
اور اپنے پیار سے معطر
لفظوں کی زندگی سے
میری خاموشیوں کا دم توڑ
سچائی اور حقیقت دے جا
اور اپنی امانت لے جا
احسان سہگل
No comments:
Post a Comment